چینی صدر کے دورے کے حوالے سے خدشات

Published on by KHAWAJA UMER FAROOQ

چینی صدر کے دورے کے حوالے سے خدشات

اسلام آباد میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں میں اگرچہ شرکاء کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے مگر اس کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس کا فی الحال حتمی اندازہ کرنا تو کافی مشکل ہے لیکن یہ لگتا ہے کہ اس سے ہمارے رواں مالی سال کے گروتھ ریٹ میں 1 فیصد سے 1.5 فیصد کی کمی ہو سکتی ہے جبکہ روپے کی قیمت میں 4 فیصد سے بھی زائد کی کمی اور ادائیگیوں کا توازن بگڑنے سے تجارتی خسارہ بڑھنے کے اثرات اس کے علاوہ ہیں۔ ایک طرف اندرون ملک یہ حال ہے تو دوسری طرف سری لنکا کے صدر کے بعد اب چین کے صدر کے مجوزہ دورہ پاکستان میں تاخیر خاصی پریشان کن بات ہے گو کہ چینی حکومت کے ترجمان نے تو یہ وضاحت کر دی ہے کہ اس دورے کا کوئی حتمی شیڈول نہیں طے کیا گیا تھا تاہم ہماری وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق وہ 14 سے 16 ستمبر کو 2 روزہ دورے پر اسلام آباد آنے والے تھے۔ یہ دورہ کیوں مؤخر ہوا، حقیقت میں اس کے ذمہ دار سب ہیں، چاہے وہ حکومت میں ہیں یا دھرنا دینے والے، مگر اس صورتحال سے پاکستان کو عالمی سطح پر امیج کے حوالے سے خاصا بڑا نقصان ہوا ہے۔ 
دوسرا یہ کہ چین کے صدر کے دورے کے موقع پر حکومت کی طرف سے جو 32 ارب ڈالر یا 34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

اس بارے میں عمران خان کی تقریر سے ہٹ کر بھی اسلام آباد کے متعلقہ حکام کی رائے ہے کہ چین کی یہ سرمایہ کاری اصل میں 5 فیصد سے 7 فیصد شرح سود کے ساتھ ایک نیا قرضہ ہے جو اس بات سے مشروط ہو گا کہ اس سرمایہ کاری کے حوالے سے چین کو سنگل پارٹی پروجیکٹ ملے گا، اگر واقعی یہ قرضہ ہے تو پھر پاکستان کے غیر ملکی قرضے اگلے 5 سالوں میں 64 ارب ڈالر سے بڑھ کر98 ارب ڈالر یا ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ چینی سرمایہ کاری کے حوالے سے اس تاثر کی وضاحت ضروری ہے کہ اگر ایشیائی ترقیاتی بنک اور آئی ایم ایف وغیرہ پاکستان کو کم شرح سود سے قرضے دے رہے ہیں جو کہ 2.4 فیصد سے 3 فیصد بتائی جاتی ہے تو پھر چین سے مشروط سرمایہ کاری کے نام پر مہنگے قرضے لینے کی کیا ضرورت ہے۔ دوسرا کیا یہ سرمایہ کاری واقعی صرف کوئلہ کے پاور پلانٹس کے لئے آرہی ہے اور اس کے لئے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل سنگل پارٹی ایوارڈ کے لئے کیا اپنی پالیسی میں کوئی لچک پیدا کرے گی۔ ہمارے خیال میں چین کے صدر کے مجوزہ دورے پر سیاست کرنے کی بجائے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف قوم اور میڈیا کو تمام بنیادی حقائق سے آگاہ کریں۔

چین کے صدر کے دورے کے التواء کو اسلام آباد کے دھرنوں سے لنک کیا جا رہا ہے۔ سیکورٹی کے نقطہ نظر سے اس حوالے سے حکومتی تشویش بجا ہے مگر حالات کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی قوتیں پاک چین دوستی کی تاریخ کو مدنظر رکھیں اگر یہ دورہ مؤخر یا ملتوی ہو جاتا ہے یا کافی عرصہ تک چینی حکام کے اگلی سہ ماہی کا شیڈول میں شامل نہیں ہوتا تو پھر اس سے دونوں ممالک کے تعلقات پر اس کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے، خاص کر ایسے حالات میں جب وہ اپنا بھارت کا دورہ برقرار رکھیں۔ عالمی سطح پر بھارت کی اس وقت پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔ اسے امریکہ ہو یا یورپ یا روس حتیٰ کہ اب چین بھی، اپنے اپنے اقتصادی مقاصد پر ہر کوئی اپنی اپنی گود میں بیٹھا رہا ہے اور ایک ایٹمی حکومت پاکستان کو ہر کوئی اپنی گود سے اتار رہا ہے۔ یہ ہے کہ ہمارے 30، 40 سال سے اقتدار میں رہنے والے سول اور فوجی حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ! اس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ پاکستان میں اس وقت فضاکسی بھی صورت میں بھارت کے حق میں نہیں ہے۔ مگر داخلی حالات کی تشویش کے باوجود بھارت سےمینگو ڈپلومیسی (آموں کے تحائف کی ڈپلومیسی) کس لئے کی جا رہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کی طرف سے بھارتی صدر پرناب مکھر جی، وزیر اعظم مودی اور وزیر خارجہ ششما سوراج کو موسمی مینگو بھجوائے گئے ہیں، یہی تحائف دنیا کے کئی اور حکمرانوں کو بھی روانہ کئے گئے ہیں مگر اس حوالے سے بھارتی اخبارات میں پاکستان اور ہمارے وزیر اعظم کی جو سبکی ہوئی ہے وہ ہمارا فارن آفس اور دوسرے حکام ضرور سٹڈی کریں۔ دیکھیں کہ بھارت میں پاکستان کے خلاف نفرت کا کیا عالم ہے۔ کیا ضرورت تھی موجودہ حالات میں ایسا کرنے کی ،کیا اس سے امریکہ خوش ہو جائے گا۔

امریکہ تو دن بدن ہم سے ناخوش ہوتا جا رہا ہے، کیا وہ پاکستان اور چین کے کاروباری تعلقات میں اضافے یا اسے گوادر پورٹ کا نظام دینے پر خوش ہو گا۔ کیا وہ چاہے گا کہ مختلف شعبوں میں امریکہ اور برطانیہ کی سرمایہ کاری کا حصہ کم ہو جائے، قطعی طور پر نہیں۔ اس لئے چین سے ہمارے تعلقات جیسے بھی ہیں وہ بھارت اور امریکہ سے بہتر ملک ہے، گو کہ اس نے ہمارے SMC سیکٹر کا بیڑہ غرق کیا ہے، ہماری داخلی معیشت کو چین کی مصنوعات نے سستا ہونے کی وجہ سے تباہ کر دیا ہے مگر عالمی سطح پر کسی ایک بڑے ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات بظاہر متوازن اور مضبوط نظر آنے چاہئیں ہوسکتا ہے کہ آنے والے 5، 10 سال میں چین علاقہ میں اپنے کئی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اس لئے وزیر اعظم نواز شریف کو چاہئے کہ چین کے صدر کو ٹیلی فون کریں اور ان سے درخواست کریں کہ وہ اپنے پلان کے مطابق پاکستان آئیں ورنہ اگر وہ صرف بھارت چلے گئے تو عالمی سطح پر ہماری خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات پہلے سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ "جنگ

Comment on this post